ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گؤ رکشکوں پر سیمی جیسی پابندی کا مطالبہ

گؤ رکشکوں پر سیمی جیسی پابندی کا مطالبہ

Sun, 09 Apr 2017 11:17:20    S.O. News Service

نئی دہلی،8؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گؤرکشوں کی دہشت گردی ،افراتفری اور تشدد کے مدنظر سپریم کورٹ نے چھ ریاستوں کو نوٹس جاری کر کے تین ہفتے کے اندر جواب مانگاہے۔ راجستھان کے الور میں پہلو خان کے قتل کے بعد گؤ رکشکوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے والی ایک درخواست پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان تمام ریاستوں کو نوٹس جاری کیا۔اطلاعات کے مطابق گؤرکشکوں کے سلسلے میں حالیہ کچھ واقعات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے راجستھان اور پانچ دیگر ریاستوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔سپریم کورٹ نے جن ریاستوں کو نوٹس جاری کی ہے اس میں اترپردیش، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گؤ رکشکوں کی اس مہم پر روک لگائی جائے ۔معاملے کی اگلی سماعت 3 مئی کو ہوگی۔رپورٹ کے مطابق یہ پٹیشن کانگریس لیڈر شہزاد پوناوالا اور تحسین پوناوالا نے دائر کی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح سیمی پر پابندی عائد کی گئی ہے اسی طرح گؤ رکشکوں پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ پٹیشن میں دعوی کیا گیا ہے کہ گؤ رکشا کا دعوی کرنے والے زیادہ تر لوگ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملو ث ہیں جس کا اعتراف خود وزیر اعظم بھی کرچکے ہیں لیکن پھر بھی ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد پر آمادہ ان تنظیموں پر پابندی عائد کریں اور سوشل میڈیا پر ان تنظیموں کی جانب سے پوسٹ کئے جا رہے مواد پر بھی پابندی لگائی جائے۔عرضی میں الور اور دادری میں گؤررکشکوں کے مظالم کے شکاردادری کے محمد اخلاق اور پہلو خان کے بہیمانہ قتل اور گجرات میں دلتوں پر ہوئے حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شہزاد پوناوالا نے اپنی درخواست میں گؤ ہتیا اور اس سے وابستہ تشدد کے 10 سنگین مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے گؤ رکشکو ں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ مرکزی حکومت انہیں کنٹرول کرنے میں بالکل ناکام ثابت ہو رہی ہے اور بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں گؤ رکشکو ں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔


Share: